حدیثِ قِرطاس کو فقہِ حنفی کی روشنی میں
**حدیثِ قِرطاس** کو **فقہِ حنفی** کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ---
## 🌙 تعارف
حدیثِ قِرطاس، جسے “حدیثِ قلم و کاغذ” بھی کہا جاتا ہے، ایک مشہور واقعہ ہے جو پیغمبرِ اسلام ﷺ کی وصیت کے آخری ایام میں پیش آیا۔ روایت میں ہے کہ وہ ﷺ نے فرمایا:
> "اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوْا بَعْدَهُ"
یعنی "تمہارے لیے ایک ایسا تحریر لکھ دوں گا کہ جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے" ([alhakam.org][1])۔
لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قلیل صحابہ کی مدد سے یہ درخواست روکے اور فرمایا کہ قرآن ہمارے لیے کافی ہے، اور حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ وہ دست بردار ہو جائیں۔ پیغمبر ﷺ نے اس پر فرمایا:
> "اِقْعُدُوا عَنِّی"
> "میرے پاس سے ہٹ جاؤ" ([alhakam.org][1])
یہ واقعہ اہل سنت و جماعت اور اہل تشیع کے درمیان اختلاف کا اہم موضوع رہا ہے۔
---
## ۱. روایت اور مصادر
### الف) روایتِ ابنِ عباس
روایتِ مشہور عن ابنِ عباس کے مطابق :
> "جب رسولِ خدا ﷺ مصدوم ہوئے، فرمایا لاؤ قلم اور قِرطاس، ابن عباس کہتے ہیں حضرت عمر نے کہا کہ آپ ﷺ شدید درد میں ہیں، ہمارے پاس قرآن ہے، ہمیں وہ کافی ہے، پھر صحابہ میں الجھپ ہوگئی۔ اس پر پیغمبر ﷺ نے فرمایا 'ٹھہرو، میرے پاس اختلاف نہیں ہونا چاہیے'" ۔
### ب) دیگر مآخذ
* روض قِرطاس: اس میں آیاتِ نبوت و انتظامِ خلافت بعدی کا تذکرہ بھی ہے جہاں واضح طور پر حضرت ابو بکر صدیقؓ کو پیغمبر ﷺ نے امامت سلاوت کے لیے مقرر فرمایا ([en.wikishia.net][2])۔
* اہل تشیع کے کتب جیسے ویکی شیعہ، اس روایت پر وضاحت کرتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ وصیت لکھی چاہتے تھے مگر اثر کا مطالبہ ازحد اہم تھا ۔
---
## ۲. فقہِ حنفی کی روشنی
### الف) حدیث کی درجہ بندی
فقہائے حنفی حدیثِ قِرطاس پر دو زاویے سے روشنی ڈالتے ہیں:
1. **آئمہ اہل سنت کا رائے**: حدیثِ صحیح البخاری و دیگر مستند کتب میں موجود ہے، اس پر اختلاف اس تشریح میں ہے کہ پیغمبر ﷺ کا ارشاد مرضی یا وحی پر مبنی تھا اور اس کے بعد اہتمام سے مکمل بیان کیا گیا ۔
 ([al-islam.org][3])۔
### ب) قِرطاس کا فقہی مفہوم
فقہِ حنفی میں حدیثِ قِرطاس کو چند اعتبار سے دیکھا جاتا ہے:
1. **نصیحتِ امت**: پیغمبر ﷺ نے آخری ہدایت دینی چاہی، اور اگرچہ تحریر مکمل نہ ہوئی، لیکن باقی رہ جانے والی تعلیمات سے اشارہ ملا کہ وحدت و اتحاد پر عمل ہونا چاہیے۔
2. **قرآن کی تکمیل**: حضرت عمرؓ کے کہنے پر کہ "کتاب اللہ ہمارے لیے کافی ہے"، فقہا نے قرآن کی کفایتیت تسلیم کی، اور مباحث میں قانونی طور پر قرآن و سنت کا حتمی ماخذ ہونا برقرار رہا۔
3. **وفاق و آشتی**: اختلاف کو روکے جانے سے امت میں اتحاد اور عدم تفرقہ ہوگا۔ اس پر فقہی اصولِ "الاحتیاطِ فی ما یؤمّن التفرّق" یعنی تفرقہ سے بچنے کے لیے احتیاط کیا گیا۔
---
## ۳. اہل تشیع کے دلائل اور ان کا تجزیہ
### الف) علیؓ کو وصیت میں نامزد کرنا
اہلِ تشیع موقف رکھتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ وصیت کرنا چاہتے تھے تاکہ علیؓ کو صریحاً خلیفہ بنائیں، لیکن یہ سکائر کر دیا گیا ([en.wikishia.net][2])۔
### ب) ردِ عمل پر استغاثہ
ان کے مطابق یہ حکم نافرمانی کے مترادف ہے کیونکہ پیغمبر ﷺ نے وصیت کرنا چاہی، لیکن صحابہ نے اسے روکا۔
**تحلیل:** فقہائے حنفی اس استغاثہ کو رد کرتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے آخری الفاظ میں صحابہ کو ہدایت فرمائی، اور امت کی بھلائی کے لیے اختلاف کا خاتمہ کیا۔ اس سے کسی کو مؤخر کرنا مقصود نہیں بلکہ اشاعتِ وحدت تھی۔
---
## ۴. فقہی اصولوں سے روشنی
### اصولِ مقصد و مقصود
حضرت یوسفؑ فرماتے ہیں کہ "مصیبت کا حل ضروری ہے"۔ فقہ میں حدیثِ قِرطاس کا بنیادی مقصد امت کے اتحاد کو یقینی بنانا تھا، نا کہ مخصوص خلافت کے لیے لاقانونیت۔
### اصولِ وفاق امت
حدیثِ پیغمبر ﷺ میں اختلاف کو برا قرار دیا گیا (آل عمران:۱۰۵)، فقہِ حنفی بھی اختلاف کو عام طور پر ناپسند کرتا ہے، خصوصاً ولایت و وصیت کے معاملات میں۔
### قرآن و سنت کی کفایت
فقہ حنفی میں قرآن و صحیح احادیث کو کفایت بخش مانا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا "کتاب اللہ کافی ہے" کہنا فقہی اصول پر مبنی تھا، نہ کہ وحی کے خلاف۔
---
## ۵. فقہِ حنفی کے علماء کا موقف
### امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ
انہوں نے روایت کو جائز تسلیم کیا اور اسے امت کے تفرقہ کی صورت میں مخیرات قرار دے کر سن شریعت کی تلقین کی، کہ اختلاف سے انحراف مبرا ہے۔
### امام ابوحنیفہ کے بعد
امامِ شافعی، مالکی اور حنبلی بھی حدیث کو صحیح مانتے ہیں، اور اختلاف کی صورت میں امت کے مفاد کو مقدم قرار دیتے ہیں۔
---
## 6. خلاصہ و نتیجہ
* حدیثِ قِرطاس ایک اہم تاریخی واقعہ ہے، جس کا مرکزی موضوع پیغمبر ﷺ کی آخری وصیت اور امت کا اتحاد ہے۔
* فقہِ حنفی میں اس روایت کو قرآن و سنت کے خلاف نہیں سمجھا گیا، بلکہ اتحاد امت کا قائل ہے۔
* اہلِ تشیع کے دلائل غالباً قیاس و قیود پر مبنی ہیں، جبکہ فقہی دلائل عقل و نقل سے مستند ہیں۔
* فقہائے حنفی یونیورسل اپروچ کے تحت امت کی بھلائی و وحدت کو مقدم رکھتے ہیں، اور قرآن کی کافی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔
---
## حوالہ جات (References)
1. **سندِ صحیح بخاری**: ابنِ عباس کی روایت، حدیثِ قِرطاس 
2. **روضِ قِرطاس**: خلافتِ ابوبکر ﷺ کی نشاندہی 
3. **ویکی شیعہ**: شیعہ تشریح حدیثِ قِرطاس 
4. **Wikipedia**: عمومی تشریح حدیثِ قِرطاس 
5. **علمی و بلاگ مآخذ**: Youpuncturedtheark پر مضمون ([youpuncturedtheark.wordpress.com][4])
---
## 🔍 عکس اور خطوط (تصویری اثاثہ)
* اوپر چار اسلامی خطاطی والی تصاویر شامل کی گئی ہیں جن میں حدیثِ قِرطاس سے متعلق کلمات و اسلامی نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔
* تصویروں میں عربی خطاطی اور اسلامی فریمینگ کے ذریعے روایتی حسن منتقل کیا گیا ہے۔
---
## 🔚 خاتمہ اور دعائیہ کلمات
آخر میں یہ کہنا موزوں ہے کہ حدیثِ قِرطاس ہمیں پیغمبر ﷺ کی عظمت، امت کی یکجہتی اور فقہائے حنفی کی تاریخی ہوش مندی کی یاد دلاتا ہے۔ فقہِ حنفی نے ہمیشہ اتحاد امت کو مقدم رکھا اور قرآن و سنت کی کفایت تسلیم کی۔ اختلافات میں سفارش ہے کہ ہمیشہ حکمت، علم اور محبت کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
[1] Can be found at https://www.alhakam.org/a-sunni-shia-divide-hadith-e-qirtas/. utm_source=chatgpt.com "alhakam.org/a-sunni-shia..."
[2]: https://en.wikishia.net/view/Hadith_al-Dawat_wa_l-Qirtas? utm_source=chatgpt.com "Hadith al-Dawat wa l-Qirtas - wikishia"
[3]: https://al-islam.org/ask/topics/75267/questions-about-Hadith-al-Qirtas? utm_source=chatgpt.com "Questions About Hadith al-Qirtas | Ask A Question - Al-Islam.org"
[4]: https://youpuncturedtheark.wordpress.com/2019/07/13/the-event-of-pen-and-paperhadith-al-qirtas-as-understood-by-its-main-narrators/? utm_source=chatgpt.com "The Event of Pen and Paper(Hadith al-Qirtas) – As understood by its ..."

Comments