🌺 شانِ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ 🌺


 🌺 **شانِ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ** 🌺

 **ایک عظیم صحابی، جنت کی بشارت پانے والے**


 ## ✦ تمہید

 اسلامی تاریخ ایسے تابناک اور روشن کرداروں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے دینِ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جان و مال، عزت و آبرو سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔  ان عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک درخشندہ نام حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا بھی ہے جنہیں نبی کریم ﷺ نے جیتے جی “جنت کی بشارت” دی۔  آپ ان عشرہ مبشرہ صحابہ میں شامل ہیں جنہیں دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری نصیب ہوئی۔

 ---

 ## ✦ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا نسب اور ابتدائی زندگی

 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ تیم سے تھا۔  آپ کا مکمل نام **طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ** تھا۔  آپ کا سلسلہ نسب نبی کریم ﷺ کے ساتھ مرہ بن کعب پر جا کر ملتا ہے۔

 آپ کے والد عبید اللہ مکہ کے ایک بااثر تاجر تھے، اسی بنا پر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی تجارت میں مہارت حاصل تھی۔  آپ قریش کے مالدار، بہادر اور باوقار نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔

 ---

 ## ✦ قبولِ اسلام

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بہت ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا۔  آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔  روایت کے مطابق:

 > **"حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ان پانچ خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی اور وہ فوراً ایمان لے آئے۔" **

 > (الاصابہ، جلد 3، صفحہ 348)

 ---

 ## ✦ اسلام کے لیے قربانیاں

 اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے مکہ میں قریش کے ظلم و ستم برداشت کیے۔  کفار نے آپ کو زنجیروں میں باندھا، بھوکا پیاسا رکھا اور طرح طرح کی اذیتیں دیں، مگر آپ نے دین حق کو کبھی نہ چھوڑا۔  یہ حضرت طلحہ کی عظمتِ ایمانی کی بڑی دلیل ہے۔

 ---

 ## ✦ ہجرت

 جب نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بھی مہاجرین کے قافلے میں شامل ہو گئے۔  آپ نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی رفاقت اختیار کی اور ہر لمحہ آپ کے ساتھ رہے۔

 ---

 ## ✦ جنگِ بدر

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جنگِ بدر کے دن تجارت کے سفر پر تھے، مگر نبی کریم ﷺ نے آپ کو بدر والوں میں شمار فرمایا:

 > **"طلحہ رضی اللہ عنہ جنگِ بدر میں شریک نہ ہو سکے لیکن انہیں بدر والوں کا درجہ حاصل ہے۔" **

 > (سیر اعلام النبلاء، جلد 1، صفحہ 155)

 ---

 ## ✦ جنگِ اُحد اور شانِ طلحہ

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے سب سے زیادہ بہادری کا مظاہرہ جنگِ اُحد میں کیا۔  جب مشرکین نے نبی کریم ﷺ پر شدید حملہ کیا، تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی حفاظت میں ڈھال بن گئے۔  انہوں نے اپنے جسم پر تیر اور تلوار کے زخم برداشت کیے، حتیٰ کہ انگلیاں کٹ گئیں۔

 > **نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من أراد أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة بن عبيد الله"**

 > ترجمہ: *"جو زمین پر چلتا پھرتا شہید دیکھنا چاہے، وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھے۔" *

 > (الترمذی، حدیث: 3752)

 ---

 ## ✦ عشرہ مبشرہ میں شمولیت

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے ان دس جلیل القدر صحابہ کی فہرست میں شامل فرمایا جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی۔  یہ ایک عظیم اعزاز ہے۔

 > **"أبو بكر في الجنة، وعمر في الجنة، وعثمان في الجنة، وعلي في الجنة، وطلحة في الجنة..." **

 > (جامع الترمذی، حدیث: 3747)

 ---

 ## ✦ لقب: طلحۃ الخیر، طلحۃ الجود، طلحۃ الفیاض

 نبی کریم ﷺ نے حضرت طلحہ کو ان کی سخاوت، دیانت، اور وفا شعاری کے سبب کئی القاب سے نوازا:

 1.  **طلحۃ الخیر** (نیکی والے طلحہ)

 2.  **طلحۃ الجود** (سخاوت والے طلحہ)

 3.  **طلحۃ الفیاض** (فیاضی والے طلحہ)

 > **"کان طلحہ بن عبید اللہ من أجود الناس وأكرمهم"**

 > (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 2، صفحہ 673)

 ---

 ## ✦ حضرت طلحہ کی سخاوت

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی سخاوت بے مثال تھی۔  ایک بار ان کے پاس 700,000 درہم جمع ہوئے، آپ نے اسی دن سب کچھ راہِ خدا میں خرچ کر دیا۔

 > **"کان لا یدع أحداً یسألہ إلا أعطاہ من مالہ، وإن لم یکن عندہ استدان وأعطاہ"**

 > ترجمہ: *"آپ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے، اگر مال نہ ہوتا تو قرض لے کر دیتے۔" *

 > (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 166)

 ---

 ## ✦ جنگ جمل اور شہادت

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان بزرگ صحابہ میں ہوتا ہے جو خلافتِ عثمان کے بعد پیدا ہونے والے فتنوں میں صلح چاہتے تھے۔  مگر بعض لوگوں کے اکسانے پر جنگ جمل کا سانحہ پیش آیا۔

 آپ میدانِ جنگ سے کنارہ کش ہو چکے تھے کہ اچانک مروان بن حکم کے تیر کا نشانہ بنے اور شہید ہو گئے۔

 > **تاریخ وفات:** 36 ہجری

 > **عمر:** تقریباً 64 سال

 > **مدفن:** بصرہ، عراق

 ---

 ## ✦ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گواہی

 جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ رو دیے اور فرمایا:

 > **"إنی لأرجو أن أكون أنا وطلحة والزبير ممن قال الله فيهم: 'وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا'"**

 > ترجمہ: *"مجھے امید ہے کہ میں، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں ہوں گے جن کے دلوں سے کینہ نکال دیا گیا اور وہ بھائی بھائی ہوں گے۔" *

 > (القرآن، سورۃ الحجر: 47)

 ---

 ## ✦ حضرت طلحہ کی شان میں اشعار

 ### شعر 1:

 طلحہ وہ وفا دار صحابی ہے نبی کا

 جس نے اُحد میں بچایا جان نبی کا

 ### شعر 2:

 جنّت کی بشارت ملی جن کو جہاں میں

 طلحہ ہیں وہ، جن کی مثال نہ ہو جہاں میں

 ---

 ## ✦ خاتمہ

 حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایک مکمل اور روشن مثال ہے۔  ان کی شجاعت، سخاوت، وفاداری اور رسول اللہ ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔  آپ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینی چاہیے۔

 ---

 ## 📚 **مراجع (حوالہ جات):**

 1.  سیر اعلام النبلاء، امام ذہبی

 2.  الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر عسقلانی

 3.  حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم

 4.  تاریخ طبری

 5.  جامع الترمذی، حدیث نمبر: 3747، 3752

 6.  صحیح بخاری، کتاب المناقب

 7.  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب

 ---


Comments

Popular posts from this blog

نماز کی فضیلت

Namaz ki Fazilat Quran or Hadaith Ki Roshni Mn

Shan e Bait ul Maqdas