🌿 شانِ حضرت عبیدہ بن جراحؓ🌿
🌿 شانِ حضرت عبیدہ بن جراحؓ🌿
**(ایک عظیم صحابی، امانت دار امت)**
✍️ از: مفتی عثمان صدیقی
## تمہید:
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح و ثناء فرمائی ہے:
> **وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ۔ **
> (سورہ توبہ: 100)
> ترجمہ: "اور سبقت کرنے والے اولین مہاجرین و انصار اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے رہے، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔"
ان ہی اولین مہاجرین میں سے ایک عظیم صحابی حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے "امانت دارِ امت" قرار دیا۔
---
## نسب و تعارف:
حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا مکمل نام **عامر بن عبداللہ بن جراح الفہری القرشی** ہے۔ آپ قریش کے معزز قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں رسول اللہ ﷺ سے ملتا ہے۔
آپ کو "ابو عبیدہ" کے کنیت سے یاد کیا جاتا ہے، اور یہی نام تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔ آپ کی والدہ کا نام امیمہ بنت غنم تھا۔
---
## قبولِ اسلام:
حضرت ابو عبیدہؓ ان اولین افراد میں شامل تھے جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔
> **علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ** لکھتے ہیں:
> "آپ عشرہ مبشرہ (جنت کی بشارت پانے والے دس صحابہ) میں شامل ہیں اور اوائلِ اسلام میں ایمان لائے۔"
> (الاصابۃ، جلد 4، صفحہ 191)
آپ نے دارِ ارقم میں اسلام قبول کیا اور خفیہ طور پر عبادت کرتے رہے، پھر جب اللہ نے اجازت دی، تو ہجرت فرما کر مدینہ منورہ چلے گئے۔
---
## غزوات میں شرکت:
حضرت ابو عبیدہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی، خصوصاً **غزوہ بدر، احد، خندق، خیبر** اور **فتح مکہ** میں آپ کی شجاعت اور کردار نمایاں تھا۔
### غزوہ بدر:
غزوہ بدر میں آپ نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کے مقابلے میں لڑائی کی، جو کفار کی صف میں تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا ایمان اور وفاداری صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے تھی۔
### غزوہ احد:
غزوہ احد میں جب نبی کریم ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا اور خود چہرے مبارک میں پیوست ہو گئی، تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے دانتوں سے خود نکالی۔
> **علامہ ابن سعدؒ** فرماتے ہیں:
> "حضرت ابو عبیدہؓ نے دو دانت قربان کیے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے خود نکال لی۔"
> (الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 310)
---
## لقب: "امینُ ھٰذہِ الامۃ" (اس امت کا امین)
رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا:
> **"لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ"**
> (صحیح بخاری: 3744، صحیح مسلم: 2419)
ترجمہ: "ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے، اور میری امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔"
یہ کتنی عظیم فضیلت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امت کی امانت حضرت ابو عبیدہؓ کے سپرد فرمائی۔
---
## تواضع اور زہد:
حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نہایت متواضع، درویش صفت اور زاہد انسان تھے۔ ان کی قیادت کے دور میں بیت المال میں لاکھوں درہم آتے، مگر ان کی اپنی رہائش ایک سادہ جھونپڑی تھی۔
> حضرت عمر بن خطابؓ جب شام کے دورے پر گئے تو حضرت ابو عبیدہؓ کے گھر آئے۔ وہاں فرش پر صرف چٹائی، لوٹا اور کھانے کا برتن تھا۔
> حضرت عمرؓ نے فرمایا:
> **"اے ابو عبیدہ! دنیا نے ہم سب کو بدل دیا، مگر تم ویسے ہی ہو!" **
> (کنزالعمال، جلد 7، صفحہ 72)
---
## شام کا گورنر:
حضرت عمرؓ نے خلافت کے دوران حضرت ابو عبیدہؓ کو شام کا گورنر مقرر فرمایا۔ آپ نے عدل، دیانت اور تقویٰ سے حکومت کی۔
آپ نے شام میں اسلامی ریاست کی بنیاد مضبوط کی۔ بیت المقدس کے مقام پر بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔
---
## وفات:
حضرت ابو عبیدہؓ سن 18 ہجری میں "طاعونِ عمواس" (جو شام کے علاقے میں پھیلا) کا شکار ہو کر وفات پا گئے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پہلے ہی فرمایا تھا:
> **"کاش! ابو عبیدہ زندہ ہوتے اور میں انہیں اپنا جانشین بنا دیتا۔" **
> (صحیح بخاری: 5710)
آپ کی قبر شام کے علاقے **اردن** کے مقام پر ہے، جو آج بھی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔
---
## اقوالِ صحابہؓ و تابعین:
### حضرت عمرؓ کا قول:
"اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے، تو خلافت انہی کو دیتا، اور اللہ کے سامنے جواب دیتا کہ میں نے بہترین کا انتخاب کیا ہے۔"
### حضرت علیؓ کا قول:
"ابو عبیدہ، اللہ کے رسول ﷺ کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔"
### حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں:
"ہم میں سب سے زیادہ امانت دار ابو عبیدہ تھے۔"
---
## حضرت عبیدہؓ کے خصائل:
1. **امانت داری**: رسول اللہ ﷺ نے خود ان کو امت کا امین کہا۔
2. **شجاعت**: میدان جنگ میں بے مثال کردار۔
3. **زہد و قناعت**: دنیا کی رغبت نہ رکھی۔
4. **دیانت دار حاکم**: شام کی گورنری عدل سے کی۔
5. **تواضع**: عام لوگوں کی طرح زندگی گزاری۔
---
## چند اشعار:
**اے امینِ امت! تو نے وفا کی راہ دکھائی**
**دھوپ میں بھی حق نبھایا، چھاؤں میں سچائی کمائی**
**نبی کا تھا پیارا صحابی، عمرؓ کا نایاب خیال**
**شام کے صحرا بھی گواہ، تیری عدل کی مثال**
---
## خلاصہ و نتیجہ:
حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ ایک عظیم صحابی، بہترین کمانڈر، دیانت دار حاکم اور امینِ امت تھے۔ ان کی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک عملی نمونہ ہے کہ کس طرح امانت، دیانت، تواضع اور عدل کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔
---
## حوالہ جات:
1. **صحیح بخاری**، حدیث: 3744
2. **صحیح مسلم**، حدیث: 2419
3. **الاصابہ فی تمییز الصحابہ**، ابن حجر عسقلانی، جلد 4، ص 191
4. **الطبقات الکبریٰ**، ابن سعد، جلد 3، ص 310
5. **کنزالعمال**، جلد 7، ص 72
6. **تاریخ الخلفاء**، امام سیوطی
7. **سیر اعلام النبلاء**، امام ذہبی، جلد 1
---

Comments